پاکستان میں مٹر کی کاشت کا جدید طریقہ اور فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے راز (Pea Farming Guide)

مٹر کی اہمیت (Introduction):
مٹر (Pea) پاکستان کی ایک اہم اور ہر دلعزیز موسمِ سرما کی سبزی ہے جو پروٹین اور وٹامنز سے بھرپور ہوتی ہے۔ کسانوں کے لیے مٹر کی کاشت اس لیے بھی پرکشش ہے کیونکہ یہ نہ صرف کم وقت میں تیار ہوتی ہے بلکہ اس کے پودے فضا سے نائٹروجن جذب کر کے زمین میں شامل کرتے ہیں، جس سے زمین کی زرخیزی بڑھتی ہے۔ اگر جدید سائنسی طریقے اپنائے جائیں تو مٹر کی فی ایکڑ پیداوار 100 سے 130 من تک حاصل کی جا سکتی ہے
بہترین وقت (پنجاب و سندھ): 15 اکتوبر سے 15 نومبر تک۔ پہاڑی علاقے: اگست اور ستمبر۔ درجہ حرارت: بیج کے اگاؤ اور بڑھوتری کے لیے 10 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ بہترین ہے۔ سخت سردی اور کورا (Frost) پھولوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
2. زمین کا انتخاب اور تیاری
مٹی: مٹر کے لیے زرخیز میرا زمین (Loamy Soil) بہترین ہے جس میں پانی کا نکاس اچھا ہو۔ چکنی یا کلراٹھی زمین اس کے لیے موزوں نہیں ہے۔ تیاری: زمین کو 2 سے 3 بار گہرا ہل چلا کر ہموار کر لیں تاکہ جڑ کو پھیلنے میں آسانی ہو۔ نامیاتی کھاد: فی ایکڑ 10 سے 12 ٹن گلی سڑی گوبر کی کھاد ڈالنا لازمی ہے تاکہ مٹی کی ساخت بہتر ہو۔
3. بہتر اقسام اور شرحِ بیج (Pea Varieties)
جلد تیار ہونے والی اقسام (Early Varieties): میٹیور (Meteor) اور کلائمیکس (Climax)۔ یہ 60 سے 70 دن میں تیار ہو جاتی ہیں۔ دیر سے تیار ہونے والی اقسام: گرین ایرو (Green Arrow) اور پی-8۔ یہ زیادہ پیداوار دیتی ہیں لیکن 90 سے 100 دن لیتی ہیں۔ شرحِ بیج: ایک ایکڑ کے لیے 35 سے 45 کلو گرام بیج درکار ہوتا ہے۔ بیج کو ہمیشہ کسی فنگی سائیڈ (زہر) سے ٹریٹ کر کے بوئیں۔
4. طریقہ کاشت اور پٹڑیاں (Sowing on Ridges)
پٹڑیوں کا درمیانی فاصلہ 2 سے 2.5 فٹ رکھیں۔ بیج کو پٹڑیوں کے دونوں کناروں پر 1 سے 2 انچ گہرائی میں لگائیں۔ پودوں کا درمیانی فاصلہ 2 سے 3 انچ رکھیں تاکہ ہوا کا گزر بہتر ہو۔
5. کھادوں کا متوازن استعمال (Fertilizer Plan)
بوائی کے وقت: 1.5 بوری ڈی اے پی (DAP) اور آدھی بوری پوٹاش فی ایکڑ۔ دورانِ فصل: اگر پودوں کی رنگت پیلی نظر آئے تو پہلے پانی کے ساتھ آدھی بوری یوریا (Urea) دیں۔
6. آبپاشی کا شیڈول
پہلا پانی بیج بونے کے فوراً بعد ہلکا لگائیں (پانی پٹڑیوں کے اوپر سے نہ گزرے)۔ بعد میں ہر 10 سے 12 دن بعد پانی دیں۔ پھول آنے اور پھلیاں بننے کے دوران پانی کی کمی پیداوار کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
7. بیماریوں اور کیڑوں کا تدارک (Pest Management)
سفید پھپھوندی (Powdery Mildew): یہ مٹر کی سب سے خطرناک بیماری ہے جس میں پتوں پر سفید پاؤڈر نظر آتا ہے۔ اس کے لیے سلفر یا مناسب فنگی سائیڈ کا اسپرے کریں۔ امریکن سنڈی: یہ پھلیوں میں سوراخ کر دیتی ہے۔ اس کے کنٹرول کے لیے ماہرین کے مشورے سے اسپرے کریں۔
💡 کسانوں کے لیے میرا تجربہ اور مشورے
۔Professional Guide to Pea Farming in Pakistan (High Yield Strategy)
Best Sowing Season: October to mid-November. Popular Varieties: Meteor (Early) and Climax (Main season). Soil Requirement: Fertile loamy soil with 10-12 tons of organic manure. Seed Rate: 35-45 kg per acre. Sowing Method: Cultivation on ridges is highly recommended for better water management. Watering: Regular irrigation is vital, especially during the flowering and pod formation stages. Harvesting: Ready in 70-90 days. Harvest when pods are well-filled but still tender and green.
📚 متعلقہ پوسٹس – دیگر سردی کی فصلیں
پاکستان میں لیٹش کی کاشتنوٹ: ہدایات عمومی کاشت کے اصول ہیں۔ مخصوص علاقے، موسم یا بیج کی اقسام کے حساب سے مقامی زرعی ادارے یا ایکسٹینشن آفیسر سے مشورہ کریں۔
Comments
Post a Comment